Allama Khadim Hussain Rizvi Biography In Urdu, علامہ خادم حسین رضوی کی زندگی کے وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے

Allama Khadim Hussain Rizvi Biography In Urdu, علامہ خادم حسین رضوی کی زندگی کے وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے

Allama Khadim Hussain Rizvi Biography In Urdu, علامہ خادم حسین رضوی کی زندگی کے وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے
Allama Khadim Hussain Rizvi Biography In Urdu, علامہ خادم حسین رضوی کی زندگی کے وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے
مولانا خادم حسین رضوی اک باب تمام ہوا۔
ناظرین مولانا خادم حسین رضوی بریلوی مکتب فکر کے عالم دین اور مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے بانی تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل خادم حسین  رضوی لاہور میں محکمہ  اوقاف  کی  مسجد  میں خطیب تھے۔ انہوں نے  ممتاز قادری کی سزا پر عملددرآمد کے بعد  کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی، جس کی وجہ سے محکمہ اوقاف نے ان کو فارغ کر دیا۔
آج کی پوسٹ میں ہم مولانا خادم حسین رضوی کی زندگی کے بارے میں وہ باتیں بتانے جا رہے ہیں جن کے بارے میں آپ پہلے سے نہیں جانتےہوں گے
خادم حسین رضوی 3 ربیع الاول  1386ھ  بمطابق 22 جون، 1966ء کو نکہ توت کے علاقے ضلع اٹک میں پیدا ہوۓ آپکے والد کا نام حاجی لعل خان تھا۔
خادم حسین رضوی نے ابتدائی تعلیم میں چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں نکا کلاں کے اسکول سے حاصل کی کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ ۔وہاں حافظ غلام  یٰسین آپ کے استاد تھے۔1978 میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔حفظ و تجوید کے بعد درسِ نظامی پڑھنے کے لیے جامع مسجد وزیر خان لاہور میں قاری منظور حسین کے پاس آ گئے ۔انھوں نے آپ کو جامعہ نظامیہ لاہور میں داخل کرا دیا۔
بعد ازاں حافظ خادم حسین نے پہلی ملازمت 1993ء میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی۔ اس سلسلے میں آپ داتا دربا لاہور کے نزدیک واقع پیر مکی مسجد میں خطیب تھے۔ جب محکمہ اوقاف کی ملازمت ترک کی تو اس وقت آپ کی تنخواہ بیس ہزار ماہانہ تھی۔ جو اب ختم ہو چکی ہے۔ پھر یتیم خانہ لاہور روڈ کے قریب واقع مسجد رحمت اللعالمین میں خطیب رہے جہاں سے انہیں پندرہ ہزار ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا.
پھر انہوں نے 1990 ء میں جامعہ نظامیہ میں” علمِ صرف “کا درس دینا شروع کیا۔1993ء میں محکمۂ اوقاف لاہور کی طرف سے دربار سائیں کانواں والے ،گجرات میں خطابت و امامت کے لیے آپ کا تقرر ہوا۔بعد ازآں دربار حضرت شاہ ابوالمعالی کی مسجد میں تبادلہ ہوا۔وہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے چار ماہ کے لیے معطل کر دیے گئے۔اس کے بعد بحال ہو کر پیر مکی صاحب لاہور کی مسجد میں فرائض انجام دینے لگے لیکن حکومتی پالیسیاں حسب معمول ان کا ہدف تھیں ،خاص طور پر ممتاز قادری کے حوالے سے ان کا مئوقف حکومت کے برعکس تھاجس کا اظہار وہ سرکاری پلیٹ فارم پر کرتے تھے ۔نتیجے کے طور پر ملازمت کا یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور محکمۂ اوقاف نے انھیں ملازمت سے فارغ کر دیا۔ ۔
“ممتاز قادری رہائی تحریک”کے محرک اور سرپرست اعلیٰ رہے۔”تحریک فدائیان ختم نبوت” کے امیر رہے۔ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت ہے۔ممتاز قادری کی سزا کے بعد “تحریک لبیک یا رسول اللہ”کے سرپرست اعلیٰ رہے  بعد ازآں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی سے اختلاف کی وجہ سے اپنی الگ تحریک”تحریک لبیک پاکستان”بنا لی۔ انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
اس کے بعد 2017 میں این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے اورسات ہزار ووٹ حاصل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔این اے 4،پشاور کے ضمنی الیکشن میںتقریبا دس ہزار ووٹ حاصل کیے ۔لودھراں کے الیکشن میں بھی ان کی تنظیم کو گیار ہزار کے قریب ووٹ پڑے۔2017ء میں نواز شریف حکومت نے ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدل دیے؛جس پر ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوئی ،خادم حسین رضوی نے بیانات کی بجائے عملی قدم اٹھایا اور اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر کئی دن دھرنا دیا؛جس کی وجہ سے وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنے۔2018ء میں جب ہالینڈ نے حضورﷺ کے خاکوں کی نمائش کی گستاخی کی تو آپ نے دوبارہ لاہور تا اسلام آباد مارچ کیا اور دھرنا دیا ۔
اس کے بعد آسیہ نام کی ایک عورت پرتوہین رسالت کا الزام لگایا گیا ،ہائی کورٹ نے اسے موت کی سزا سنائی لیکن سپریم کورٹ میں اسے رہائی مل گئی۔ جس پر خادم حسین رضوی کا شدید ردِ عمل سامنے آیا۔تحریک لبیک کے کارکنوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔سیکڑوں گاڑیوں کو آگ لگا دی؛جس کے نتیجے میں خادم حسین رضوی اور ان کی تنظیم کے عہدہ داروں اور معاونین کو گرفتار کر لیا گیا۔
ناظرین خادم حسین پر عوامی مقامات پر مخالفین کو گالیاں دینے کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن خادم حسین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے بھی قران میں بیان فرمائے ہیں باقی واللہ علمان کا ایمان ان کے ساتھ..
اگر انکی ذاتی زندگی کی بات کریں تو خادم حسین رضوی کی شادی اپنے چچا کی بیٹی سے ہوئی جو آپ کے والد لعل خان نے رشتہ پسند کیا تھا۔ 1993ء میں محکمہ اوقاف میں خطیب کی ملازمت کے بعد یہ شادی ہوئی۔  ان کے دو بیٹے  حافظ محمد سعدحافظ محمد انس اور چار بیٹیاں ہیں۔
دونوں بیٹے حافظ قرآن ہیں اور درس نظامی کا کورس کر رہے ہیں . ان کی مادری زبان  پنجابی جبکہ فارسی پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔شاعری سے بھی لگائوتھا۔خود کو کلام اقبال کا حافظ کہتے تھے، وفات سے چند دن پہلے فیض آباد پر پھر دھرنا دیا،اس بار ان کا مطالبہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنا تھا کیونکہ فرانس کے صدر نے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی تھی۔
روحانی طور پر خادم حسین سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد لمعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، جہلم سے مرید تھے۔
ناظرین خادم حسین 2009 میں پیش آنے والے ایک حادثے میں وہ معذور ہو گئے اور وہیل چیئر تک محدود ہو گئے تھے  مولانا خادم حسین رضوی کے بڑے بھائی امیر حسین رضوی گاﺅں میں مسجد تعمیر کروا رہے تھے تو وہ اس سلسلے میں 2009 میں اپنے گاﺅں جانے کیلئے سفر پر روانہ ہوئے ، راستے میں ایک ڈرائیور کو نیند آ گئی اور ایک موڑ سے گاڑی نیچے جا گری ، اس حادثے میں مولانا خادم حسین رضوی کے سر اور مغز میں شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث ان کے جسم کا نچلا حصہ معذور ہو گیا تھا
خادم حسین رضوی 19 نومبر 2020ء، بروز جمعرات بوجہ علالت بعمر 54 سال لاہور میں وفات پائی۔ 21 نومبر 2020ء بروز ہفتہ کو صبح 10 بجے نماز جنازہ گراؤنڈ مینار پاکستان میں ادا کی گئی، اللہ ان کی مغفرت فرماۓ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.