Blog Post Kaise Likhte Hain in Urdu

Blog Post Kaise Likhte Hain

Blog Post Kaise Likhte Hain
Blog Post Kaise Likhte Hain

لکھیے، آپ بھی ضرور لکھیے

انسان کے پاس اظہار خیال کی جو صلاحیت ہے وہ اُس کے رویے کی بھی نشاندہی کرتی ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اظہار خیال کرنے والا اپنا پیغام آگے کس طرح پہنچائے کہ مخاطب کو علم ہوجائے کہ وہ کیا خواہش رکھتا ہے۔ بس اِس مقصد کے حصول کے لیے کوئی لمبی تقریر سے مدد لیتا ہے تو کوئی ایسی صاف گوئی سے کام لیتا ہے کہ منہ پھٹ کہلاتا ہے۔

اسی طرح کوئی دھیمے سے لہجے میں ایک جملہ کہہ دیتا ہے اور دوسرے کی عقل کے دروازے کھل جاتے ہیں اور سامنے والا یہ محاورہ استعمال کئے بغیر نہیں رہتا کہ بھئی اس نے تو ’’دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے‘‘۔ماضی میں ’’ذاتی ڈائری‘‘ بھی اظہار خیال کی ایک بہترین صورت رہی ہے۔ وہ مرد و خواتین جن کو اپنی کسی بھی صلاحیت کا مان ہوتا ہے،

جو پسند و ناپسند ہوتا یا وہ ایک عملی زندگی کے دوران جو محسوس کرتے اس کو اپنی ذاتی ڈائری میں تحریر کرلیتے۔ ذاتی ڈائری کی دو بنیادی وجوہات ہوا کرتی تھی۔ پہلی یہ کہ وہ اپنے تمام یاد واقعات کو محفوظ کرنا چاہتا تھا، اور دوسرا یہ ہوتا تھا کہ اُن میں اظہار خیال کی وہ صلاحیت نہیں ہوتی تھی جو زبان سے بیان کرسکیں یا لوگوں کی تنقید برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

ذاتی ڈائری درحقیقت ایک ایسا سہارا ہوتی جو لکھنے والے کے زبان و بیان کو اپنے صفحات میں چھپا لیتی اور وہ مطمئن ہوجاتے کہ چلو کوئی تو ہے جو ان کی بھی سنتا ہے۔ دوسرے افراد کو اِس ڈائری کے بارے میں اِس قدر تجسس ہوا کرتا تھا کہ اُن کی یہ اولین خواہش ہوتی تھی کہ بس کسی طرح یہ ڈائری مل جائے تو معلوم ہوسکے کہ آخر اِس میں لکھا کیا جاتا ہے۔

بس پھر اگر ڈائری کسی دوسرے کے ہاتھ لگ جائے تو وہ نہ صرف بڑے مزے لیکر پڑھی جاتی تھی بلکہ دوسروں کو بھی اُس میں لکھے واقعات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ دیکھیں ڈائری میں کیا کچھ لکھا ہے، جبکہ اِس دوران ڈائری لکھنے والا افسردہ ہوتا کہ اُس کی راز کی باتیں منظر عام پر آگئیں، یہی وہ وجہ تھی کہ ڈائری لکھنے والے اِس کی حفاظت کے لیے بھرپور انتظام کرتے تھے۔ یہ ڈائری کس قدر اہم ہوا کرتی ہے،

اِس بارے میں وقت نے ثابت کیا کہ کئی ذاتی ڈائریاں مکمل اجازت کے ساتھ باقاعدہ کتب کی شکل میں بھی سامنے آئیں اور لکھنے والے کے اظہار کی پہچان بن گئیں بلکہ اُس کی ذاتی زندگی میں اُس کے رویے سے مماثلت کا پہلو نفسیاتی علم میں بہت اہم تصور کیا گیا۔بس پھر وقت نے کروٹ لی اور اچانک سب کچھ ہی تبدیل ہوگیا۔ کمپیوٹر کی ایجاد اور پھر ای میل، انٹرنیٹ، بلاگز اور دوسری بے شمار ویب سائٹس کے بڑھتے رجحان نے دنیا کو ایک ایسا اظہار خیال کا پلیٹ فارم مہیا کردیا جس کو آج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہوچکی ہے

یعنی ’’سوشل میڈیا‘‘ اور سونے پر سہاگہ اینڈرائیڈ موبائلز نے اس کو کمال درجے پر پہنچا دیا۔اگرچہ آج بھی لوگ لکھتے ضرور ہیں لیکن ذاتی ڈائری میں نہیں بلکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بلاگز لکھتے ہیں۔ اپنی دن بھر کی روئیداد، دلچسپ واقعات اور اپنے خیالات کو دوسروں سے بانٹا جاتا ہے۔ پھر کوئی نہ کوئی لازمی طور پر اپنے متعلقہ موضوع اور دلچسپی کی باعث اس تحریر تک جا پہنچتا ہے اور لکھاری کی تحقیق و علم میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔

اِس سلسلے کی خاص بات یہ ہے کہ کوئی بھی بات صرف علاقوں، شہروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ملکی سطح سے بھی آگے دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے ایسے معلوماتی مضامین سامنے آتے ہیں جو کسی کی ذاتی پسند کی وجہ مقبول ہوجاتے ہیں اور یوں لوگوں کا فائدہ ہوجاتا ہے۔نئے دور کے نئے طریقے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کے خیالات پر لوگوں کو تاثرات دینے کی پوری پوری آزادی ہوا کرتی ہے اور آپ کو یہ علم ہوجاتا ہے

کہ لوگ آپ کی رائے یا خیالات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر اتفاق کررہے ہیں تو معاملہ ٹھیک ہے لیکن اگر اتفاق نہیں کررہے تو نتیجہ تنقید کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسی صورت میں لکھنے والے کے صبر کا امتحان بھی بہت اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ یوں لوگوں میں برداشت کا مادہ بتدریج بڑھ جاتا ہے، جو نہ صرف اُن کے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی اچھا پہلو ہے۔لہذا، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سوشل میڈیا ذاتی ڈائری لکھنے والوں کیلئے بھی جدید متبادل ہے۔ جس میں جھجھک نام کی کوئی چیز نہیں، بلکہ لکھنے والے کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہی وہ اعتماد ہے جس کی مدد سے کوئی بھی انسان بڑے سے بڑا کام کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here