Rizaq e Halal Kya Hai

رزق حلال

Rizaq e Halal Kya Hai 1

دین کے احکامات انسانوں کی فلاح کے لئے نازل کئے گئے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ قوائد و ضوابط کے بغیر بہتر طریقے سے پروان نہیں چڑھ سکتا۔ اسلامی نظام حیات کی یہ خوبصورتی ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے پر راہنمائی موجود ہے۔ خانگی معاملات ہوں یا معاشرتی روایات دین اسلام نے کچھ اصول وضع کئے ہیں جو نہ صرف معاملات کو درست ڈگر پر لے کر چلتے ہیں بلکہ زندگی میں سکون کا باعث بھی بنتے ہیں۔

انہی معاملات میں سے ایک حصول رزق حلال ہے۔ :اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا یَا أَیُّہَا النَّاسُ کُلُواْ مِمَّا فِیْ الأَرْضِ حَلاَلاً طَیِّباً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْن…(سورة البقرة) ترجمہ: ”اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال پاکیزہ رزق ہے وہ کھاؤ اورشیطان کی پیروی نہ کرو۔ بلاشبہ وہ تمہارا ایک کھلا دشمن ہے۔ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو رزق حلال کمانے اور خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔

ساتھ ہی حرام رزق سے بچنے کی ہدایت بھی دی گئ ہے۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے ’’اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور وہ پاکیزہ اور طیب چیز کو ہی پسند کرتا ہے ۔‘‘ مسلم اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جب رزق حلال کے حصول لے لئے تگ و دو کرتا ہے اور طیب رزق کمانے میں مشغول رہتا ہے تو دین اسلام روزی کمانے کے لئے کچھ حدود وقیود کا تعین کرتا ہے

تاکہ اُن ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے وہ اپنے لئے اور خود سے وابستہ افراد کے لئے رزق حلال کما سکے ـ حلال رزق کیونکہ پاک رزق ہے اس لئے اس میں برکت ہوتی ہے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا ’’ جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے واسطے اس میں برکت نہیں اوراپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم جانے کا سامان ہے…

‘مسند احمد بن حنبل چنانچہ رشوت، سود، ناحق قبضہ، بے ایمانی ، چوری ، بھیک مانگنااور کوئی بھی ایسا ذریعہ معاش جو دینی اصولوں سے ٹکراتا ہو اللہ کی رحمت سے دور کرنے کا باعث ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ اللہ کریم نے محنت کش کو اپنا دوست قرار دیا ہے لیکن پیشہ ور بھکاریوں کی اکثریت ” الکاسب حبیب اللہ” پریقین نہیں رکھتی۔

سہل پسندی کے عادی اور رزق حلال کی اہمیت سے نا وافق افرادچاہتے ہیں کہ انہیں بغیر مشقت کئے سب کچھ مل جائے۔ ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے۔ لیس للانسان الا ما سعی۔ یعنی انسان کے لئے وہی ہے جس کے لئے اس نے کوشش کی۔ تو جب کوشش کرنی ہی ہے تو حلال رزق کے حصول کے لئے کرنی چاہیئے تا کہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.